عظیم اہرامِ مصر: قدیم جغرافیہ دانوں اور انجینئرز کی حیرت انگیز بصیرت

 


عظیم اہرامِ مصر، جو دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک ہے، نہ صرف اپنی ساخت اور حجم کی وجہ سے بلکہ اپنی مضبوطی اور استحکام کے لحاظ سے بھی دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والے اصول، مواد، اور جگہ کا انتخاب اس دور کے لوگوں کی گہرے علمیت اور تکنیکی مہارت کی غمازی کرتے ہیں۔

 اہرام کی تعمیر:

 وزن اور ساخت :

 عظیم اہرام کا اندازہ 6,000,000 ٹن وزن کا ہے، جو لاکھوں چونے کے پتھروں کے بلاکس پر مشتمل ہے۔ ہر بلاک کا وزن 2.5 سے 15 ٹن کے درمیان ہے۔ یہ پتھر کس طرح یہاں لائے گئے، ان کو ترتیب کیسے دی گئی، اور انہیں اتنے وقت تک محفوظ کیسے رکھا گیا، یہ سب آج بھی تحقیق کا موضوع ہے۔


 ہموار بنیاد :

 جیسا کہ ذکر کیا گیا، اہرام کی بنیاد کو 230 میٹر کے دائرے میں ایک سینٹی میٹر سے بھی کم کی غلطی کے ساتھ ہموار کیا گیا۔ یہ اتنی زیادہ درستگی اس دور میں کیسے حاصل کی گئی، جب جدید آلات اور ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی، اس بات کو سمجھنا آج کے انجینئرز کے لیے بھی مشکل ہے۔


 زمین کا انتخاب :

 اہرام کے نیچے کی زمین چٹانی ہے، جو اس کے وزن کو سنبھالنے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ اگر اس عمارت کو کسی اور جگہ جیسے بنکاک کی مٹیلی زمین پر تعمیر کیا جاتا تو شاید یہ زمین دھنس جاتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہرام کی جگہ کا انتخاب نہایت سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا۔


 قدیم مصری علمیت:

- **جغرافیائی معلومات**:

 قدیم مصریوں کے پاس زمین کی ساخت اور دباؤ کے بارے میں گہری معلومات تھیں۔ وہ زمین کے مختلف حصوں کی موزونیت کا اندازہ لگا سکتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ کس زمین پر کتنے وزن کی عمارت بنائی جا سکتی ہے۔


 سائنس اور ریاضی :

 مصریوں کی ریاضی اور جیومیٹری میں مہارت بھی حیران کن ہے۔ انہوں نے ایسے اصول اور طریقے ایجاد کیے تھے جو آج کے دور کے لیے بھی جدید ہیں۔ اہرام کی صحیح شکل، اس کے زاویے، اور بلاکس کی ترتیب اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ لوگ جیومیٹری میں ماہر تھے۔


  تعمیراتی تکنیک :

 یہ بھی ممکن ہے کہ مصریوں کے پاس ایسے تعمیراتی تکنیک موجود تھیں جن کے بارے میں ہمیں علم نہیں۔ بلاکس کو اٹھانے، ہموار کرنے، اور انہیں ترتیب دینے کے طریقے آج بھی ایک معمہ ہیں۔


 دیگر عوامل:

 استحکام :

 آج کی تعمیرات میں بھی کسی عمارت کے لیے 100 سال میں 15 سینٹی میٹر تک کے دباؤ کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ عظیم اہرام نے 5000 سال میں صرف 1.5 سینٹی میٹر سے کم دباؤ برداشت کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف اس کا ڈیزائن بلکہ اس کی بنیاد بھی انتہائی مضبوط ہے۔


 زلزلے :

 عظیم اہرام نے کئی زلزلے برداشت کیے ہیں، مگر اس کے باوجود اس کی ساخت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی تعمیر میں زلزلہ مزاحم تکنیکوں کو بھی مدنظر رکھا گیا تھا۔


 نتیجہ:

عظیم اہرامِ مصر کی تعمیر ایک معجزہ ہے جسے سمجھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق بھی کافی نہیں۔ یہ سوال کہ آیا قدیم مصری آج کے لوگوں سے زیادہ سمجھدار تھے یا نہیں، ایک موضوعِ بحث ہے۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ لوگ اپنے وقت کے حساب سے انتہائی ماہر اور علمیت کے حامل تھے۔ ان کے تعمیراتی اصول اور تکنیک آج بھی ہمارے لیے ایک راز ہیں اور مزید تحقیق کے متقاضی ہیں۔


قدیم تہذیبوں کی علمیت اور ٹیکنالوجی کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہمیں اپنی موجودہ معلومات اور نظریات کو دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ان کے پاس ایسے علوم اور تکنیک موجود تھیں جو آج کے دور میں بھی جدید سمجھی جا سکتی ہیں۔

Scievoworld

1080 provides free science,information on top stories, business, entertainment, sports and more. resources for both students and teachers about the evolution of the animal kingdom. We offer short videos, lesson plans, ...

Post a Comment

Previous Post Next Post